ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ریاست کے 156تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر، راحت کاری کے لئے فوری قدم اٹھانے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت:دیش پانڈے

ریاست کے 156تعلقہ جات خشک سالی سے متاثر، راحت کاری کے لئے فوری قدم اٹھانے تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت:دیش پانڈے

Wed, 26 Dec 2018 23:55:05    S.O. News Service

بنگلورو، 26دسمبر(ایس او نیوز) ریاستی حکومت نے ریاست کے بیشتر حصے کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا ہے۔آج وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے اعلان کیا کہ ریاست کے 175 میں سے 156 تعلقہ جات خشک سالی سے متاثرہ قرار دئے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں آج کابینی ذیلی کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اخبار ی نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2016میں تیار شدہ خشک سالی سے نپٹنے کے ضوابط کے مطابق مانسون کی ناکامی کے بعد تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کے لئے جو پیمانے طے کئے گئے ہیں انہیں کی بنیاد پر حکومت نے 156تعلقہ جات کو خشک سالی سے متاثرہ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان تعلقہ جات میں خشک سالی کے اثرات کا ایک اور جائزہ لینے کے بعد طے کیا جائے گا کہ ان میں حساس کتنے ہیں اور حساس ترین کتنے۔ انہوں نے بتایاکہ مانسون کی شروعات کے بعد ریاست کے بعض علاقوں میں سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات کے بعد 45 تعلقہ جات کو سیلاب سے متاثرہ قرار دیا گیا اور 100تعلقہ جات جہاں بارش کی قلت رہی انہیں خشک سالی سے متاثرہ قرار دیا گیا تھا۔ لیکن مانسون کے آخری حصے میں ریاست بھر میں بارش کے مکمل ناکام ہوجانے کے سبب بقیہ 56تعلقہ جات میں بھی کاشتکاروں کو فصلوں کی ناکامی کا بھاری خسارہ جھیلنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ نئے ضوابط کے مطابق خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لے کر حکومت کو رپورٹ روانہ کی جائے۔انہوں نے کہاکہ نقصانات کا اوسط اگر 33اور50 فیصد کے درمیان رہا تو انہیں خشک سالی سے متاثرہ عام تعلقہ جات کے زمرے میں رکھا جائے گا ، اوراگر نقصان 50 فیصد سے زائد ہوں تو قومی آفات سماوی ریلیف فنڈ کے تحت ان تعلقہ جات کے لئے مرکزی حکومت سے مدد لی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ مانسون کی ناکامی سے قبل ریاست بھر میں 31.8 لاکھ ہیکٹر زمین پر کاشتکاری کی گئی تھی، اس میں سے 26.03لاکھ ہیکٹر زمین پر فصلیں ناکام ہوگئیں۔

دیش پانڈے نے کہاکہ خشک سالی کی صورتحال کے پیش نظر متاثرہ تعلقہ جات میں پانی کی دستیابی ، چارے کی فراہمی ، نریگا اسکیم کے تحت روزگار ضمانت اسکیم کے تحت بے روزگاروں کوروزگار کی فراہمی پر فوری توجہ دی جائے گی۔ان تعلقہ جات میں پینے کا پانی مہیا کرانے کے لئے ڈپٹی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ ترجیحی بنیاد پر قدم اٹھائے جائیں۔ ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی پر جن علاقوں میں پابندی عائد ہے وہاں پر فوری طور پر پابندی ختم کی جائے۔ حکومت کی طرف سے خشک سالی سے متاثرہ ہر تعلقہ کو شدت کے حساب سے 50 تا ایک کروڑ روپے مہیا کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام ڈپٹی کمشنروں کے کھاتوں میں پہلے ہی226کروڑ روپیوں کی رقم راحت کاری کے لئے جمع کرائی گئی ہے۔


Share: